پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے انتخابات کے
بارےمیں تجاویز و آراء
پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے انتخابات
کےسلسلے میں کمیونٹی میں گہما گہمی جاری ہے ۔ مختلف پینل تشکیل دینے کی خاطر رابطے
جاری ہیں ۔ کچھ افراد کاغذات نامزدگی جمع کروا چکے ہیں ، جبکہ کئی اس کی تیاری کر
رہے ہیں ۔
کمیونٹی ان انتخابات
کے بارے میں کافی حد تک پرامید ہے ، تاہم شفافیت کے حوالے سے کچھ لوگوں کو خدشات
بھی ہیں ۔ یقیناً الیکشن کمیشن کو صاف ستھرے اور شفاف انتخابات کے لئے کافی محنت
کرنا ہوگی ۔
اس سلسلے میں کمیونٹی
کے کچھ افراد کی آراء اور تجاویز پیش ہیں ۔
ہوکائیدو سے عارف حنیف نے ووٹ ڈالتے وقت ایلین کارڈ کی کاپی پیش کرنے کی شرط کے خاتمے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پردہ دار خواتین بھی ووٹ ڈالنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوں گی ۔ تاہم ، انہوں نے کسی دوسری تنظیم میں عہدے رکھنے والوں کے لئے انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی کو افسوسناک قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس شرط سے بہت سے اہل افراد پاکستان ایسوسی ایشن کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔ تاہم ، انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت سزا یافتہ افراد ، یا نادہندگان کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ، تاکہ صاف ستھری قیادت سامنے آسکے ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ووٹنگ کا وقت رات آٹھ بجے تک رکھا جائے ، تاکہ ملازمت کرنے والے افراد ، کام کے بعد ووٹ دے سکیں ۔
ٹوکیو سے ظاہر شاہ نے
ڈاک کے ذریعے ووٹ کی سہولت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی افراد الیکشن کے
دن کام کے باعث ، ووٹ دینے نہیں جا سکیں گے ۔ ایسے افراد کے لئے یہ سہولت ہونی
چاہئے کہ وہ ایلین کارڈ کی کاپی کے ساتھ اپنا ووٹ پیشگی طور پر ڈاک کے ذریعے بھیج
سکیں ۔
ٹوکیو ہی سے محمد علی
نے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ان انتخابات میں اچھی قیادت سامنے آئے تو ایسے افراد
پر پابندی عائد کرنی ہوگی ، جو مختلف قسم کی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں ، یا جنہوں نے
دوسروں کا پیسہ کھایا ہوا ہے ۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ ایسے افراد کا کچا
چٹھہ نیٹ پر ان کے ناموں کے ساتھ شائع کیا جائے ، تاکہ جاپان بھر کے لوگوں کو ایسے
افراد کے بارے میں پتہ چل سکے ۔ جناب علی نے کمیونٹی سے اپیل کی کہ اگر ایسا کوئی
بے ایمان شخص ، کسی عہدے کا امیدوار ہو ، تو اس کے خلاف الیکشن کمیشن میں اعتراض
داخل کروائیں ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ ایسے افراد کے کاغذات نامزدگی
مسترد کئے جائیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایسوسی ایشن کو پاکستانی سیاست
سے آلودہ نہ ہونے دینے کے لئے سیاسی تنظیموں کے عہدیداروں پر الیکشن لڑنے کی پابندی
اچھی ہے ۔ لیکن سماجی یا مذہبی تنظیموں کے عہدیداروں کے لئے پابندی سمجھ سے باہر ہے
۔
کاناگاوا سے ایک
پاکستانی نے نام ظاہر نہ کئے جانے کی شرط پر کہا کہ انہیں الیکشن کمیشن کے ارکان کی
ایمانداری پر تو اعتماد ہے ، لیکن شفاف انتخابات کروا سکنے کی اہلیت پر کچھ شک ہے ۔اس
کی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعداد بہت کم ہے ،
اور تعداد نہ بڑھانے کے لئے ان پر دباؤ معلوم ہوتا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ چھ
یا سات افراد کس طرح جاپان بھر میں منصفانہ انتخابات کرواسکیں گے ، کیونکہ ابھی تک
یہ اعلان نہیں کیا گیا
کہ پریفیکچروں میں انتخابات کے
نگران کون ہوں گے ۔ جعلی ووٹنگ کی روک تھام کے لئے جلد از جلد علاقائی نگرانوں کا
اعلان انتہائی ضروری ہے ۔
کمیونٹی کے مختلف
افراد کی تجاویز اور آراء سےکمیونٹی کی اس خواہش کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ الیکشن میں
دلچسپی تو رکھتی ہے ، لیکن الیکشن کو اب تک کے الیکشن سے مختلف دیکھنا چاہتی ہے ۔
کمیونٹی اب ایسے عہدیدار نہیں چاہتی ، جو کاروبار میں یا عام زندگی میں بے ایمان
ہوں ۔ یہ ضروری نہیں کہ پاکستان ایسوسی ایشن کے عہدیدار علماء دین ہوں ، لیکن
بہرحال انہیں ایک اچھا انسان اور محب وطن پاکستانی ضرور ہونا چاہئے ۔اس کے ساتھ
ساتھ انہیں اس قابل بھی ہونا چاہئے کہ وہ کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے جاپان کے
حکومتی اداروں سے بات چیت کرنے کے قابل ہوں ۔ جاپانی میڈیا کے ساتھ روابط کے لئے ،
جاپانی زبان کی صلاحیت بھی نہایت اہم ہے ۔
شفاف انتخابات کے لئے
کمیونٹی کی فکرمندی نہایت خوش آئند ہے ۔ الیکشن کمیشن کے اراکین پر کمیونٹی کا
عمومی اعتماد بھی خوشی کا باعث ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ علاقائی طور پر ، خصوصاً
دوردراز علاقوں میں ووٹنگ کے وقت کسی ممکنہ دھاندلی کے تدارک کی کمیونٹی کی خواہش
کو بھی اہمیت دی جانی چاہئے ، اور مختلف علاقوں کے لئے پولنگ اسٹیشنوں اور پولنگ کے
عملے کے انتخاب کے کام کا جلد از جلد آغاز ہونا چاہئے ۔ اگر الیکشن کمیشن پہلے ہی
اس پر غور کر رہا ہے ، تو جلد اعلان بھی ہونا چاہئے ، تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ
ہو سکے ۔
ایک اور مسئلہ جس کا
ابھی تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ، وہ یہ ہے کہ علاقائی شاخیں کن کن پریفیکچروں
میں تشکیل دی جائیں گی ۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر مختلف علاقوں میں پاکستانیوں
کی تعداد کے کچھ اعدادوشمار موجود ہیں ، تاہم وہ پرانے ہیں ۔ اس سلسلے میں کوئی
واضح اصول وضع کیا جانا چاہئے کہ پاکستانی باشندوں کی کتنی تعداد والے پریفیکچر میں
علاقائی شاخ کے انتخابات ہوں گے ، اور کتنی تعداد والے پریفیکچر میں پولنگ اسٹیشن
قائم کئے جائیں گے ۔
الیکشن کمیشن کو
پاکستان ایسوسی ایشن کے شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لئے ابھی بہت کام کرنا ہوگا
۔ صاف ستھرے انتخابات کے لئے بعض حلقوں سے الیکشن کمیشن کے ارکان میں اضافے کا
مطالبہ یقیناً قابل فہم ہے ۔ تاہم ارکان کی تعداد میں اضافہ کرنے یا نہ کرنے
کا فیصلہ بھی خود الیکشن کمیشن نے ہی کرنا ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ،
کمیونٹی کی تجاویز و آراء کا مثبت انداز میں جائزہ لیتے ہوئے ، قابل قبول تجاویز کا
اختیار کرے گا ، اور نہ اختیار کی جانے والی تجاویز کے ناقابل عمل ہونے پر کمیونٹی
کو اعتماد میں لے گا ۔ اﷲ تعالٰی ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔