سینئر ۔ جونیئر
تحریر : طیب خان
جب ہم بچے تھے تو دیکھتے تھے کہ گھر میں بڑے بھائی صاحب کو زیادہ پیسے ملتے ہیں ۔ کسی تقریب یا میلاد میں جاتے ، تو بڑوں کو دو لڈو اور چھوٹوں کو ایک ۔ یعنی ہر جگہ بڑوں کی پذیرائی زیادہ ۔ اسکول اور کالج میں بھی اکثر سینئرز کی باتیں سننی پڑتی تھیں ۔ اگر زیادہ بولنے کی کوشش کرتے تو کہا جاتا تھا ، ’’میاں آپ کو کیا معلوم ۔ آپ کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن تو ہوئے ہیں ‘‘ ۔مجبوراً صبر کرتے تھے کہ وہ بڑے ہیں ۔
اور اب ہماری کمیونٹی میں آج کل سینئرز کا بڑا چرچا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ پہلے ہمیں سینئرز کی ایک لسٹ بنانی چاہئے ۔ اس میں ترتیب وار نام ہوں ، تاکہ معلوم ہو کہ کون بڑا سینئر اور کون چھوٹا ۔ فہرست میں سب کی عمروں کی بھی نشاندہی ہونی چاہئے ۔ ایک اور فہرست ’آنے والے سینئرز‘ کی ہونی چاہئے ، تاکہ پہلے والوں کے ’’کہیں ‘‘جانے کی صورت میں وہ ان کی جگہ لے سکیں ۔فی الحال تو سب سینئرز ماشاء اللہ صحت مند لگتے ہیں ، اور ہم سب ان کی صحت کے لئے دعاگو ہیں ۔ ویسے جونئرز کو چاہئے کہ وہ سینئرز کی عزت کریں اور اپنی باری کا انتظار کریں ۔
جب چھوٹے تھے تو بڑوں سے عید بقرعید پر عیدی ملتی تھی ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بڑوں کے تنگ ہوئے کپڑے بھی پہننے پڑتے تھے ۔امی کا آرڈر ہوتا تھا کہ ماموں ، چاچا، نانا، دادا وغیرہ آئیں تو ان کو سلام ضرور کرنا ہے ۔ یعنی چھوٹا ہونے کے کچھ فوائد بھی تھے اور کچھ نقصانات بھی ۔ اسی طرح سینئرز کے بھی کچھ حقوق کے ساتھ کچھ فرائض بھی ہوتے ہیں ۔
ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اپنے بڑوں کی عزت کریں ، اور بڑوں کا فرض ہے کہ وہ چھوٹوں کے ساتھ شفقت کریں ۔ ان کی غلطیوں کی نشاندہی ضرور کریں ، لیکن ان کے پیچھے لٹھ لے کر نہ دوڑیں ۔آخر جونیئرز کے بھی کچھ حقوق ہیں ۔ وہ بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں ۔ ان کا بھی کوئی مؤقف ، کوئی نقطہ نظر ہے ۔ان کے مؤقف کو بھی سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں ۔ ان کے راستے کی دیوار نہ بنیں ، بلکہ ان کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں ۔ اسی میں بڑوں کی بڑائی اور عزت ہے ۔
آئیں کمیونٹی میں میل جول کے رجحان کو فروغ دیں ، اور سب ایک دوسرے کی عزت کریں ۔